حویلی اقبال سنگھ سے ممدوٹ ہاؤس تک

اقبال سنگھ کی حویلی  جو موجودہ ممدوٹ ہاؤس کے نام سے جانی جاتی ہے
اقبال سنگھ کی حویلی جو موجودہ ممدوٹ ہاؤس کے نام سے جانی جاتی ہے
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھی ممتاز مسلم لیگی راہنماء اور قیام پاکستان کے بعد پنجاب کے پہلے وزیر اعلیٰ نواب افتخار علی خان ممدوٹ بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آئے۔
انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے ضلع ساہیوال کے جنوب مغرب کی جانب جی ٹی روڈ پر ساہیوال سے 65 کلومیٹر کے فاصلہ پر گاؤں 11 چودہ ایل اقبال نگر میں ایک ہزار ایکڑ زرعی اراضی کے علاوہ علاقہ کے مشہور سکھ زمیندار اقبال سنگھ کی حویلی بھی الاٹ کی گئی۔
جو موجودہ ممدوٹ ہاؤس کے نام سے ابھی تک اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ کھڑی ہے۔ حویلی 1925ء سے 1930ء کے درمیان بنائی گئی تھی۔ اقبال سنگھ کی چھوڑی ہوئی حویلی کی عمارت اس وقت کے طرز تعمیر کا بہترین شاہکار ہے۔
حویلی میں لگائے گئے خوبصورت پودے
حویلی میں لگائے گئے خوبصورت پودے
جی ٹی روڈ پر اقبال نگر سے ملتان کی طرف تقریباً ایک کلومیٹر جائیں تو بائیں ہاتھ پر ممدوٹ فارم ہاؤس کا بورڈ لگا ہوا ہے۔
مذکورہ حویلی نواب افتخار علی خان ممدوٹ کے پوتوں نواب پرویز افتخار علی خان کے بیٹوں نواب شاہنواز ممدوٹ، نواب اویس علی خاں ممدوٹ اور نواب سلمان علی خان ممدوٹ کی ملکیت ہے۔
حویلی میں لگائے گئے آم کے باغات
حویلی میں لگائے گئے آم کے باغات
پھاٹک سے ریلوے لائن کراس کرتے ہی کھجور اور آم کے باغات میں گھری ہوئی یہ حویلی دلکش منظر پیش کرتی ہے۔
مرکزی گیٹ سے حویلی میں داخل ہوں تو پانچ ایکٹر قطعہ اراضی پر مشتمل خوبصورت لان دعوت نظارہ دیتے ہیں۔
لان میں ایک چھوٹا سا پختہ تالاب بنا ہوا ہے جس کے بارے میں نواب شاہنواز ممدوٹ نے بتایا کہ کبھی یہاں ایک فوارہ بھی نصب تھا۔ 
حویلی کے لان میں بنایا گیا ایک چھوٹا سا پختہ تالاب
حویلی کے لان میں بنایا گیا ایک چھوٹا سا پختہ تالاب
تالاب کے ساتھ بیٹھنے کیلئے ایک خوبصورت سنگی بنچ بنی ہوئی ہے جبکہ ایک کونے میں پانی کی ایک بڑی ٹینکی ہے جس سے پوری حویلی کو پانی کی سپلائی ہوتی ہے۔
پانی کی ٹینکی سے پوری حویلی کو پانی کی سپلائی ہوتی ہے
پانی کی ٹینکی سے پوری حویلی کو پانی کی سپلائی ہوتی ہے
اونچی چھتوں، موٹی دیواروں، روشن اور ہوادار کمروں، وسیع برآمدے کے علاوہ عمارت کے کونے میں بنے ہوئے ایک چھوٹے سے "گوردوارے" پر مشتمل ہے۔
حویلی میں بنایا گیا گوردوارہ
حویلی میں بنایا گیا گوردوارہ
برآمدے میں مشرقی دیوار پر نواب افتخار علی خان ممدوٹ اور ان کے بیٹے نواب پرویز افتخار علی خاں ممدوٹ کی فریم شدہ تصویریں آویزاں ہیں۔
نواب شاہنواز ممدوٹ نے بتایا کہ قیام پاکستان کے بعد ملکی سیاست میں متحرک نواب ممتاز علی خاں دولتانہ اور حسین شہید سہروردی سمیت تقریباً تمام بڑے راہنماہ وقتاً فوقتاً اس حویلی کے مہمان بنتے رہے ہیں۔
 حویلی میں بنائی گئی خوبصورت سنگی بنچ
حویلی میں بنائی گئی خوبصورت سنگی بنچ
اور اہم ملکی مسائل کے حل کیلئے صلاح مشورے بھی کرتے رہے ہیں۔ ممدوٹ خاندان نے اس تاریخی حویلی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں کی جس کے باعث یہ آج بھی اپنی اصلی حالت میں پوری آب و تاب کے ساتھ دعوت نظارہ دیتی ہے۔
کھجور کے باغات
کھجور کے باغات
ممدوٹ فیملی نے اقبال سنگھ کی حویلی میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی اور حویلی کو اس کی بنیادی حالت میں قائم رکھا ہوا ہے اور اس کی دیکھ بھال ممدوٹ فیملی خود کرتی ہے۔
حویلی کی خوبصورتی قائم رکھنے کیے لئے ممدوٹ فیملی نے درجن بھر مالی ملازم رکھے ہوئے ہیں۔
Share To:

Manshah Mohsin

Post A Comment:

0 comments so far,add yours

Back To Top