کیا کسووال کو غلہ منڈی کی ضرورت نہیں؟




کیا کسووال کو غلہ منڈی کی ضرورت نہیں؟

                    غلام عباس کھرل
غلہ منڈی میں موجود گندا پانی
غلہ منڈی میں موجود گندا پانی
کسووال کی تقریباً 90 فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے۔
کسانوں کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے کسووال میں 1967ء میں غلہ منڈی کا قیام عمل میں لایا گیا اور اس مقصد کے لیے جی ٹی روڈ اور اوکانوالہ روڈ کے ساتھ ساڑھے بارہ ایکڑ زمین خریدی گئی۔ اس سے پہلے کسان اپنی اجناس دوسرے شہروں کی منڈیوں میں لے جا کر فروخت کرنے پر مجبور تھے۔
غلہ منڈی کے تین بڑے گیٹ تعمیر کیے گئے جن میں سے دو اوکانوالہ روڈ کی جانب اور ایک جی ٹی روڈ کی جانب رکھا گیا۔ اس وقت منڈی میں پختہ سڑکیں اور اجناس ذخیرہ کرنے کے لیے پختہ 'پھڑ' بنائے گئے۔
اس کے علاوہ غلہ منڈی کے عین درمیان مین گڈا خانہ کے لیے جگہ مختص کی گئی تھی جہاں پر بیلوں کے لیے چارے اور پانی کا بھی انتظام ہوتا تھا۔
اور مارکیٹ کمیٹی کے دفتر کے سامنے تقریباً 2 ایکڑ زمین پر خوبصورت لان بھی بنائے گئے تھے۔
غلہ منڈی کسووال میں کینٹین کے لیے بھی جگہ مختص کی گئی تھی لیکن اسے نیلام نہیں کی گیا۔
انہی تمام لوازمات کے ساتھ 1967ء میں اس وقت کے ڈپٹی کمشنر ساہیوال مظفر قادر نے غلہ منڈی کسووال کا افتتاح کیا جس کے ساتھ ہی منڈی میں اجناس کی خرید و فروخت اور متعلقہ سرگرمیاں شروع ہوگئیں۔
1980ء کی دہائی تک یہ معاملات اسی طرح بخیر و خوبی انجام پاتے رہے لیکن اس کے بعد منڈی سے جڑی سرگرمیاں ماند پڑنے لگیں۔ آڑھتیوں اور کسانوں کے رشتے بھی کمزور پڑتے گئے۔ یہاں تک کہ سن 2000ء آتے آتے غلہ منڈی کی ہیئت مکمل طور پر تبدیل ہوگئی۔
گُزشتہ دس ماہ سے بند واٹر فلٹریشن پلانٹ
گُزشتہ دس ماہ سے بند واٹر فلٹریشن پلانٹ
غلہ منڈی کسووال میں آڑھتیوں کی دکانوں کی تعداد 7 رہ گئی ہے جبکہ باقی دکانیں ڈاکٹروں کے کلینکس، پیسٹی سائیڈز، لیبارٹریاں، ہیئر سیلون اور بلڈنگ میٹریل کی دکانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔
موجودہ غلہ منڈی کسووال کی حالت یہ ہے کہ ریسٹ ہاؤس میں ایک ٹریکٹر ورکشاپ اور محکمہ تعلیم زنانہ کا دفتر ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔
غلہ منڈی میں گندم، مکئی، باجرہ، جوار، توریا، مرچیں، شکر، چاول، گڑ، کپاس وغیرہ مختلف دیہاتوں سے فروخت کے لیے آتا تھا۔
چونکہ اب گنا شوگر ملز خرید لیتی ہیں جبکہ گندم بھی محکمہ خوراک خرید لیتا ہے جس کی وجہ سے آڑھتی اس کام کو چھوڑتے جا رہے ہیں۔
منڈی میں پلے داروں کی تعداد جو کبھی سینکڑوں میں ہوا کرتی تھی کم ہو کر درجن بھر رہ گئی ہے۔ اس حوالے سے پلے داران ایسوسی ایشن کے صدر محمد خالد کہتے ہیں کہ اب پلے داروں کی ضرورت اجناس کے لیے نہیں بلکہ بلڈنگ میٹریل اور کھاد وغیرہ کے ٹرک لوڈ اور اَن لوڈ کرنے کے لیے پڑتی ہے۔
غلہ منڈی سے ملحقہ آبادی کے رہائشی اسلم ملک بتاتے ہیں کہ منڈی سیوریج کا پانی جا بجا موجود رہتا ہے اور  پورے شہر کا کوڑا کرکٹ بھی غلہ منڈی میں ہی پھینکا جاتا ہے۔
'کسووال کا واحد واٹر فلٹریشن پلانٹ جو غلہ منڈی میں واقع ہے تقریباً 10 ماہ سے بند پڑا ہے۔'
غلہ منڈی میں موجود دکانیں
غلہ منڈی میں موجود دکانیں
شبیر علی گزشتہ تین سال سے آڑھت کا کاروبار کر رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اوکانوالہ روڈ کی جانب کھلنے والے دونوں گیٹ ناجائز تجاوزات کی وجہ سے تقریباً بند ہو چکے ہیں جن سے اب پیدل گزرنا بھی محال ہے۔
'تمام صورتِ حال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ غلہ منڈی کی بحالی کے آثار بھی دور دور تک نظر نہیں آرہے۔'
کسووال کے نواحی گاؤں کے کاشتکار ثاقب علی کہتے ہیں کہ وہ چند سال قبل تک غلہ منڈی میں زرعی اجناس لے کر آتے تھے لیکن آڑھتی انہیں بروقت ادائیگی نہیں کرتے تھے جس کی وجہ سے اب وہ یہاں نہیں آتے۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ بروقت ادائیگی نا ہونے کی وجہ سے فصلوں کی بوائی بھی تاخیر کا شکار ہوتی تھی۔
'میں پہلے گندم اور گنا کی فروخت کے لیے منڈی کا رخ کرتا تھا لیکن یہاں سے بروقت رقم کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے اب میں براہ راست ملوں کو زرعی اجناس فروخت کر دیتا ہوں۔'
محمد علی اب غلہ منڈی میں زرعی ادویات کی فروخت کا کام کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ایک دہائی قبل تک ان کی آڑھت کی دوکان خوب چلا کرتی تھی کیونکہ پہلے گندم، گڑ اور شکر فروخت کے لیے منڈی میں لائی جاتی تھی لیکن اب کسان یہ چیزیں ملوں کو فروخت کرتے ہیں۔
'گزشتہ کچھ سالوں سے میرے پاس زرعی اجناس آنا بند ہو گئیں جس سے میرا کاروبار متاثر ہوا اور میں نے آڑھت چھوڑ کر زرعی ادویات کا کام شروع کر لیا۔'
انجمن آڑھتیاں کے صدر سجاد اکبر حیدری اس حوالے سے کہتے ہیں کہ منڈی کی بحالی کے امکان اب نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایک دہائی قبل تک غلہ منڈی میں آڑھت کے کاروبار کو خوب عروج حاصل تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔
'نہری پانی میں کمی اور ناقص زرعی ادویات کے سبب گزشتہ چند برسوں میں باغات اور زراعت بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کا نقصان ہمیں بھی ہواہے




غلام عباس کھرل

رائے غلام عباس کھرل کاشتکار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ گزشتہ 15 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں اور کسووال پریس کلب رجسٹرڈ کے جنرل سیکریٹری ہیں۔
Share To:

Manshah Mohsin

Post A Comment:

0 comments so far,add yours

Back To Top