کسووال۔مزدوری کے لیے کراچی جانے والی بچی اغوا کے بعد مختلف ہاتھوں میں فروخت ہوتی رہی
کسووال۔مزدوری کے لیے کراچی جانے والی بچی اغوا کے بعد مختلف ہاتھوں میں فروخت ہوتی رہی،والدین کراچی کے تھانوں میں خوار ہوتے رہے کہیں سے انصاف نہ ملا،والدین کی وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے انصاف کی اپیل۔تفصیل کے مطابق نواحی گاوں 118 بارہ ایل کے رہائشی محنت کش رب نواز کی12سالہ بیٹی عنبرین بی بی 2010 میں کراچی مزدوری کے لیے گئی جہاں پر وہ بنگلہ عسکری نمبر4 جوہر روڈ کراچی پر زہرہ نامی خاتون کے ہاں کام کرتی تھی،اسی کوٹھی میں بانو نامی عورت بطور”ماسی”کام کرنے آتی تھی جس نے عنبرین بی بی کر نشہ آور چیز سو نگھا کر اپنے بھائی غلام رسول کی مدد سے اغوا کر لیا دونوں بہن بھائی عنبرین بی بی کو علی پور ضلع مظفر گڑھ پنجاب لے آئے جہاں پر انہوں نے اس کا نکاح غلام رسول سے زبر دستی کروا دیا،بچی کے غائب ہونے پر بچی کے والدین کراچی پہنچے جہاں انہوں نے پہلی درخواست 8مئی 2011 کو تھانہ شاہراہ فیصل کو دی لیکن پولیس نے کوئی کاروائی نہ کی بعد ازاں 27 جون 2012 کو تھانہ مبینہ ٹاون میں درخواست گزاری گئی لیکن اس بار بھی شنوائی نہ ہوئی۔دوسری جانب غلام رسول سے عنبرین بی بی کے ہاں ایک بچہ ا پیدا ہوا جس کے بعد اس کے خاوند غلام رسول نے اسے ایک لاکھ روپے کے عوض جام پور کے رہائشی کس نا معلوم شخص کے ہاتھ فروخت کر دیا جہاں اس کے ہاں ایک اور بچی پیدا ہوئی جسے بقول عنبرین بی بی ان لوگوں نے گلہ دبا کر مار ڈالا جبکہ اس بچی کے بعد دوسری بچی پیدا ہوئی یہ دونوں بچے 3سالہ کاشف اور ایک سالہ مریم اب بھی اس کے پاس ہیں۔ان لوگوں نے بعد ازاں عنبرین بی بی کو ڈیرہ غازی خاں میں فراخت کر دیا وہاں سے چھ ماہ بعد موقع پا کر عنبرین بی بی فرار ہو کر کراچی میں اپنی پرانی مالکہ زہرہ کے پاس پہنچ گئی،زہرہ زوجہ نذیر نے متاثرہ عنبرین بی بی کی داستان سن کر مدد کرنے کی بجائے اسے گھر سے نکلنے کا حکم دیا،اور کہا کہ اگر تم یہاں سے نہ گئی تو تمہیں چوری کے الزام میں اندر کروا دیں گے بچی کے ولدین رب نواز اور اس کی بیوی نے بتایا کہ ہم کراچی پولیس کے پاس ایک سے دوسرے تھانہ میں خوار ہوتے رہے لیکن کسی نے بھی ہماری ایک نہیں سنی،والدین نے وزیر اعلی سندھ،وزیر اعلی پنجاب،اور مرکزی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ملزموں کو گرفتار کرکے کڑی سے کڑی سزا دلونے کا مطالبہ کیا ہے
Home
کسووال کی خبریں
کسووال۔مزدوری کے لیے کراچی جانے والی بچی اغوا کے بعد مختلف ہاتھوں میں فروخت ہوتی رہی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)








Post A Comment:
0 comments so far,add yours